مسند الإمام الشافعي
كتاب العدد والسكنى والنفقات— عدت، رہائش اور نان و نفقہ کا بیان
بَابٌ فِي سُكْنَى الْمُطَلَّقَةِ باب: مطلقہ عورت کی رہائش کا بیان
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِهَا، فَدَفَعْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَبْتُوتَةِ، فَقَالَ: تَعْتَدُّ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا. فَقُلْتُ: فَأَيْنَ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ فَقَالَ: هَاهْ وَوَصَفَ أَنَّهُ تَغَيَّظَ، وَقَالَ: قَتَلَتْ فَاطِمَةُ النَّاسَ وَكَانَ لِلِسَانِهَا ذَرَابَةٌ فَاسْتَطَالَتْ عَلَى أَحْمَائِهَا فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ مَكْتُومٍ.میمون بن مہران کہتے ہیں، میں مدینہ آیا اور میں نے مدینہ کے سب سے بڑے عالم کے متعلق پوچھا تو مجھے سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا گیا، میں نے ان سے طلاق بائن والی عورت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ اپنے خاوند کے گھر عدت گزارے گی، تو میں نے کہا، فاطمہ بنت قیس کی حدیث کہاں ہے؟ تو انہوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : فاطمہ کے واقعہ نے لوگوں کو ہلاک کر دیا، حالانکہ اس کی زبان میں درشتگی تھی، جو اس کے خاوند کے رشتہ داروں کے لیے ناگوار ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا۔