حدیث نمبر: 1315
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا أَلْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ.
حافظ محمد فہد

فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص نے انہیں طلاق بتہ (تیسری طلاق بائن) دی جبکہ وہ شام میں تھے۔ پھر لمبی حدیث بیان کی اور اس میں کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا خرچہ اس کے ذمہ نہیں ہے۔“ اور آپ نے اسے ام شریک کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”یہ ایسی عورت ہے جس کے پاس میرے صحابہ کا کثرت سے آنا جانا ہے لہٰذا تو ابن ام مکتوم کے ہاں عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہے تو وہاں اپنے کپڑے (حجاب) بھی اتار سکتی ہے۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العدد والسكنى والنفقات / حدیث: 1315
تخریج حدیث اخرجه مسلم، الطلاق، باب المطلقة البائن لا نفقة لها (1480)۔