حدیث نمبر: 1311
وَقَالَتْ زَيْنَبُ: سَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا، أَفَنَكْحِلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا" ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: "لَا" ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ" . [ ص: 129 ] قَالَتْ زَيْنَبُ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ أَوْ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَقْبِضُ بِهِ، فَقَلَّمَا تَقْبِضُ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ، فَتُعْطَى بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدَهُ مَا شَاءَتْ مِنَ الطِّيبِ أَوْ غَيْرِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: الْحِفْشُ: الْبَيْتُ الصَّغِيرُ الذَّلِيلُ مِنَ الشَّعَرِ وَالْبِنَاءِ وَغَيْرِهِ. وَالْقَبْصُ: أَنْ تَأْخُذَ مِنَ الدَّابَّةِ مَوْضِعًا بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهَا. وَالْقَبْضُ: الْأَخْذُ بِالْكَفِّ كُلِّهَا.
حافظ محمد فہد

اور زینب نے بیان کیا کہ میں نے اپنی ماں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرماتی ہیں، ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میری بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا، اور اس کی آنکھیں خراب ہیں کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“، دو یا تین دفعہ کہا، ہر مرتبہ یہ فرماتے تھے کہ نہیں، پھر فرمایا: ”یہ (عدت شرعی) چار ماہ 10 دن ہے، جاہلیت میں تو تمہیں ایک سال بعد مینگنی پھینکنی پڑتی تھی۔“ (یعنی جاہلیت میں تو عدت ایک سال تھی اور اب چار ماہ 10 دن پر بھی صبر نہیں)۔ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا، جب کسی عورت کا (زمانہ جاہلیت میں) خاوند فوت ہو جاتا تو وہ ایک تنگ کوٹھڑی میں داخل ہو جاتی، اور وہ سب سے برے کپڑے زیب تن کرتی، خوشبو یا کوئی اور چیز استعمال نہ کرتی یہاں تک کہ اسی حال میں سال گزر جاتا، پھر (عدت سے باہر آنے کے لیے) ایک چوپایا، گدھا یا بکری یا کسی پرندے کو لایا جاتا اور وہ اس کو پکڑتی، ایسا کم ہی ہوتا کہ وہ کسی جانور کے کسی حصے کو پکڑتی اور وہ نہ مرتا ہو، پھر عدت سے نکلتی، اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی، پھر وہ خوشبو یا اور کوئی چیز استعمال کرتی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: حِفش کا مطلب ہے: چھوٹا، بالوں اور اینٹوں وغیرہ سے بنا ہوا گھر، اور القَبص سے مراد ہے کہ آپ اپنی انگلیوں سے چوپائے کی کسی جگہ کو پکڑیں، اور قبض سے مراد تمام ہتھیلی سے پکڑنا ہے۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العدد والسكنى والنفقات / حدیث: 1311
تخریج حدیث اخرجه البخاري ،الطلاق، باب تحد المتوفى عنها اربعة اشهر وعشرا (5336) ومسلم، الطلاق، باب وجوب الاحداد فى عدة الوفاة، وتحريمه في غير ذلك الخ (1488) ، (1489)۔