مسند الإمام الشافعي
كتاب العدد والسكنى والنفقات— عدت، رہائش اور نان و نفقہ کا بیان
بَابُ الْإِحْدَادِ باب: سوگ منانے (بناؤ سنگھار ترک کرنے) کا بیان
حدیث نمبر: 1310
وَقَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّي أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: "لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" .حافظ محمد فہد
اور زینب نے بیان فرمایا کہ اس کے بعد میں زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت آئی جب ان کے بھائی فوت ہوئے، تو انہوں نے خوشبو منگوا کر لگائی پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی کوئی خواہش نہ تھی لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر ارشاد فرماتے سنا کہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے اس کے خاوند کی میت کے، کیونکہ اس کا سوگ چار ماہ دس دن ہے۔“