مسند الإمام الشافعي
كتاب العدد والسكنى والنفقات— عدت، رہائش اور نان و نفقہ کا بیان
بَابُ الْإِحْدَادِ باب: سوگ منانے (بناؤ سنگھار ترک کرنے) کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ، قَالَ: قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سُفْيَانَ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةُ خَلُوقٍ أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةٌ ثُمَّ مَسَحَتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" .حمید بن نافع سے روایت ہے کہ اسے زینب بنت ابی سلمہ نے تین احادیث بیان کیں، فرمایا کہ زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں اُم المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت آئی جب ان کے والد ابوسفیان کا انتقال ہوا تھا، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خوشبو منگوائی جس میں خلوق کی زردی یا کسی اور چیز کی ملاوٹ تھی، پھر وہ ایک لونڈی نے انہیں لگائی، پھر خود انہوں نے اسے اپنے رخساروں پر لگایا، پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی کوئی خواہش نہ تھی، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ ”جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے سوائے شوہر کے (کہ اس کا سوگ) چار ماہ 10 دن ہے۔“