مسند الإمام الشافعي
كتاب العدد والسكنى والنفقات— عدت، رہائش اور نان و نفقہ کا بیان
بَابُ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَلَمْ يُدْخَلْ بِهَا باب: اس بیوہ کی عدت جس کی رخصتی/خلوت نہ ہوئی ہو
حدیث نمبر: 1307
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا أَنَّ لَهَا الْمِيرَاثَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَا صَدَاقَ لَهَا.حافظ محمد فہد
عبد خیر سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا، جس نے شادی کی پھر ہم بستری سے پہلے ہی فوت ہو گیا، اور اس نے بیوی کا حق مہر بھی مقرر نہیں کیا تو اس عورت کے لیے میراث کا حصہ ہے اور اس پر عدت بھی ہے البتہ اس کے لیے حق مہر نہیں ہے۔