حدیث نمبر: 1306
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ: أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ جَدِّهِ هَاشِمِيَّةٌ وَأَنْصَارِيَّةٌ، فَطَلَّقَ الْأَنْصَارِيَّةَ وَهِيَ تُرْضِعُ فَمَرَّتْ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ هَلَكَ وَلَمْ تَحِضْ. فَقَالَتْ: أَنَا أَرِثُهُ لَمْ أَحِضْ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَضَى لِلْأَنْصَارِيَّةِ بِالْمِيرَاثِ، فَلَامَتِ الْهَاشِمِيَّةُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: هَذَا عَمَلُ ابْنِ عَمِّكِ، هُوَ أَشَارَ عَلَيْنَا بِهَذَا، يَعْنِي: عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.
حافظ محمد فہد

محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ اس کے دادا کے نکاح میں ایک ہاشمی اور ایک انصاری عورت تھی۔ انہوں نے انصاری عورت کو طلاق دے دی، جبکہ وہ دودھ پلاتی تھی اور ایک سال گزر گیا کہ وہ فوت ہو گئے اور اس عورت کو حیض نہ آیا، اس عورت نے کہا: ”میں اس کی وارث بنوں گی کیونکہ مجھے حیض نہیں آیا۔“ یہ اپنا جھگڑا لے کر عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے انصاری عورت کے لیے میراث کا فیصلہ دیا، اس پر ہاشمی عورت نے عثمان رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ کام تمہارے چچا زاد بھائی کا ہے، ان کا اشارہ اس سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العدد والسكنى والنفقات / حدیث: 1306
تخریج حدیث اسناده ضعيف لإنقطاعه، فإن محمد بن يحيى بن حبان لم يدرك جده - اخرجه البيهقى 7/ 419 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4619) - وعبد الرزاق (11102)۔