مسند الإمام الشافعي
كتاب العدد والسكنى والنفقات— عدت، رہائش اور نان و نفقہ کا بیان
بَابُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا قَبْلَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا باب: اس عورت کا بیان جس کا شوہر اس کی (طلاق کی) عدت ختم ہونے سے پہلے مر جائے
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ: حَبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَحِيحٌ، وَهِيَ تُرْضِعُ ابْنَتَهُ فَمَكَثَتْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا لَا تَحِيضُ، يَمْنَعُهَا الرَّضَاعُ أَنْ تَحِيضَ ثُمَّ مَرِضَ حَبَّانُ بَعْدَ أَنْ طَلَّقَهَا بِسَبْعَةِ أَشْهُرٍ أَوْ ثَمَانِيَةِ أَشْهُرٍ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ امْرَأَتَكَ تُرِيدُ أَنْ تَرِثَ. فَقَالَ لِأَهْلِهِ: احْمِلُونِي إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَحَمَلُوهُ إِلَيْهِ، فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ امْرَأَتِهِ وَعِنْدَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُمَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا تَرَيَانِ؟ فَقَالَا: نَرَى أَنَّهَا تَرِثُهُ إِنْ مَاتَ، وَيَرِثُهَا إِنْ مَاتَتْ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ مِنَ الْقَوَاعِدِ اللَّاتِي قَدْ يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ، وَلَيْسَتْ مِنَ الْأَبْكَارِ الَّلَاتِي لَمْ يَبْلُغْنَ الْمَحِيضَ، ثُمَّ هِيَ عَلَى عِدَّةِ حَيْضِهَا مَا كَانَ مِنْ قَلِيلٍ أَوْ كَثِيرٍ، فَرَجَعَ حَبَّانُ إِلَى أَهْلِهِ وَأَخَذَ ابْنَتَهُ، فَلَمَّا فَقَدَتِ الرَّضَاعَ حَاضَتْ حَيْضَةً ثُمَّ حَاضَتْ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ تُوُفِّيَ حَبَّانُ قَبْلَ أَنْ تَحِيضَ الثَّالِثَةَ، فَاعْتَدَّتْ عِدَّةَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا وَوَرِثَتْهُ. قَالَ: فِي كِتَابٍ فِي حَبَّانَ بْنِ مُنْقِذٍ بِالْبَاءِ.عبدالرحمن بن ابی بکر نے بیان کیا کہ حبان بن منقذ انصاری نے تندرستی میں اپنی بیوی کو طلاق دی، اور وہ عورت ان کی بیٹی کو دودھ پلاتی تھی کہ 17 ماہ گزر گئے اور اسے حیض نہ آیا، دودھ پلانے کی وجہ سے اسے حیض نہیں آتا تھا، پھر طلاق دینے کے 17 یا 18 ماہ بعد حبان بیمار ہو گئے، تو میں نے ان سے کہا: ”آپ کی بیوی آپ کی وارث بننا چاہتی ہے۔“ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: ”مجھے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے چلو۔“ وہ انہیں ان کے پاس لے آئے، تو انہوں نے انہیں اپنی بیوی کے ارادہ کے متعلق بتایا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”تم دونوں کا کیا خیال ہے؟“ ان دونوں نے کہا: ”ہمارے خیال میں اگر یہ فوت ہو جائے تو وہ عورت اس کی وارث بنے گی، اور اگر وہ فوت ہو جائے تو یہ وارث بنے گا، کیونکہ یہ نہ تو ان عورتوں میں سے ہے جن کا حیض آنا بند ہو چکا ہو، اور نہ ہی ان لڑکیوں میں سے ہے جو ابھی حیض کی عمر کو نہ پہنچی ہوں۔ پھر یہ اپنی حیض کی عدت پر ہے۔“ (یہ سن کر) حبان اپنے گھر آئے اور اس سے اپنی بچی لے لی، جب دودھ پلانا بند ہوا تو اسے ایک حیض پھر دوسرا حیض آیا، پھر اس کو تیسرا حیض آنے سے پہلے ہی حبان وفات پا گئے، تو اس نے وہ عدت گزاری جو فوت شدہ خاوند والی عورت گزارتی ہے اور اس کے مال کی وارث بھی بنی۔