مسند الإمام الشافعي
كتاب العدد والسكنى والنفقات— عدت، رہائش اور نان و نفقہ کا بیان
بَابُ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ باب: اس بیوہ کی عدت کا بیان جو حاملہ ہو
حدیث نمبر: 1304
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يُتَوَفَّى عَنْهَا [ ص: 125 ] زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَقَدْ حَلَّتْ. فَأَخْبَرَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَوْ وَلَدَتْ وَزَوْجُهَا عَلَى سَرِيرِهِ لَمْ يُدْفَنْ لَحَلَّتْ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ، وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.حافظ محمد فہد
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس عورت کے متعلق پوچھا گیا جس کا خاوند فوت ہو گیا اور وہ حاملہ ہو تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب وضع حمل ہو جائے تو اس کی عدت ختم ہو جائے گی، ان کو ایک انصاری آدمی نے بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر کسی عورت نے بچہ جنا کہ اس کا خاوند چارپائی پر ہے ابھی دفن نہیں کیا گیا تو بھی اس کی عدت ختم ہوگئی۔