مسند الإمام الشافعي
كتاب العدد والسكنى والنفقات— عدت، رہائش اور نان و نفقہ کا بیان
بَابُ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ باب: اس بیوہ کی عدت کا بیان جو حاملہ ہو
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ [ ص: 124 ] وَأَبَا سَلَمَةَ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تَنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِذَا نَفِسَتْ فَقَدْ حَلَّتْ. قَالَ: فَجَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي، يَعْنِي: أَبَا سَلَمَةَ، فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَجَاءَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهَا قَالَتْ: وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا: "قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي" .سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عباس اور ابو سلمہ رضی اللہ عنہما کا اس عورت کے متعلق اختلاف ہو گیا جس کے ہاں خاوند کی وفات کے کچھ دن بعد بچہ پیدا ہوا، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، دو عدتوں میں سے آخری عدت اسے گزارنی ہوگی، اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا، جب اسے نفاس کا خون آگیا تو اس کی عدت ختم ہوگئی، سلیمان نے کہا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے اور انہوں نے کہا میں بھی اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں (یعنی میرا بھی یہی فتویٰ ہے) آخر انہوں نے ابن عباس کے آزاد کردہ غلام کریب کو ام سلمہ کے پاس بھیجا تو اس نے ان سے یہی مسئلہ پوچھا، پھر وہ ان کے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ انہوں نے کہا کہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے کچھ دن بعد بچہ جنا تو اس نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے بیان کی تو آپ ﷺ نے اسے کہا: ”تیری عدت ختم ہو چکی لہذا تو نکاح کرلے“۔