مسند الإمام الشافعي
كتاب العدد والسكنى والنفقات— عدت، رہائش اور نان و نفقہ کا بیان
بَابُ مَنْ رَفَعَتْهَا حَيْضَةٌ باب: اس عورت کا بیان جس کا حیض (بیماری یا کسی وجہ سے) رک گیا ہو
حدیث نمبر: 1297
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَيَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَيُّمَا [ ص: 121 ] امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ فَحَاضَتْ حَيْضَةً أَوْ حَيْضَتَيْنِ، ثُمَّ رَفَعَتْهَا حَيْضَةٌ فَإِنَّهَا تَنْتَظِرُ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ، فَإِنْ بَانَ بِهَا حَمْلٌ فَذَلِكَ، وَإِلَّا اعْتَدَّتْ بَعْدَ التِّسْعَةِ أَشْهُرٍ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ حَلَّتْ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.حافظ محمد فہد
ابن مسیب رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس عورت کو طلاق ہوئی پھر اسے ایک یا دو حیض آئے، اور اس کے بعد حیض آنا بند ہو گیا تو وہ نو ماہ انتظار کرے گی، اگر حمل واضح ہو گیا تو یہی عدت کی مدت ہے، وگرنہ وہ نو ماہ بعد تین مہینے اور انتظار کرے گی پھر عدت سے فارغ ہوگی۔“