حدیث نمبر: 1287
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ: أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: مَلَّكْتُ امْرَأَتِي أَمْرَهَا فَفَارَقَتْنِي، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ فَقَالَ لَهُ: الْقَدَرُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: ارْتَجِعْهَا إِنْ شِئْتَ، فَإِنَّمَا هِيَ وَاحِدَةٌ، وَأَنْتَ أَمْلَكُ بِهَا. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
حافظ محمد فہد

خارجہ بن زید رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس محمد بن ابی عتیق روتے ہوئے آئے۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا، تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا میں نے عورت کو اس کے معاملے کا اختیار دیا تو اس نے مجھے اپنے آپ سے جدا کر دیا، زید رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا، تو نے یہ کام کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا، تقدیر میں ایسا ہی تھا۔ پھر زید رضی اللہ عنہ نے اسے کہا، اگر تو چاہے تو اس سے رجوع کرلے، کیونکہ یہ ایک ہی طلاق ہے، اور تو اس کا اب بھی زیادہ مالک ہے۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الرجعة / حدیث: 1287
تخریج حدیث اسناده صحیح اخرجه البيهقي : 348/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4445) - وعبد الرزاق (11993)۔ ومالك في الموطأ الطلاق، باب ما يحب فيه تطليقة واحدة من التمليك۔