مسند الإمام الشافعي
كتاب الرجعة— رجوع (طلاق کے بعد دوبارہ رجوع) کا بیان
بَابٌ فِي تَمْلِيکِ الْمَرْأَةِ أَمْرَهَا باب: عورت کو اس کے معاملے کا مالک بنانے (اختیارِ طلاق دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 1286
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ [ ص: 116 ] يَقُولُ: إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ، فَالْقَضَاءُ مَا قَضَتْ إِلَّا أَنْ يُنَاكِرَهَا الرَّجُلُ، فَيَقُولَ: لَمْ أُرِدْ إِلَّا تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَيَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ، وَيَكُونُ أَمْلَكَ لَهَا مَا كَانَتْ فِي عِدَّتِهَا.حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق کا مالک بنا دے، تو فیصلہ وہی ہے جو عورت نے کیا سوائے اس کے کہ مرد اس کا انکار کرے اور کہے، میں نے ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا (یعنی اسے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا) اور وہ اس بات پر قسم بھی اٹھائے ، اور وہ خاوند جب تک عورت عدت میں ہے اس کے بارے میں زیادہ اختیار والا ہے۔