حدیث نمبر: 1281
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَلْبَتَّةَ، ثُمَّ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: فَقَرَأَ: وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا [النِّسَاءِ: 66] مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ. قَالَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ امْرَأَتَكَ فَإِنَّ الْوَاحِدَةَ تَبُتُّ.
حافظ محمد فہد

محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ مجھے مطلب بن حنطب رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دی، پھر وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو یہ بات ان سے عرض کی تو انہوں نے کہا: ”تو نے یہ کام کیوں کیا؟“ مطلب کہتے ہیں میں نے کہا: ”بس میں نے یہ کام کر دیا“، یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ”اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے، تو یقیناً یہ ان کے لیے بہتر اور زیادہ مضبوطی والا ہو۔“ (النساء: 66)۔ ”تو نے یہ کام کیوں کیا؟“ اس نے کہا: ”بس میں نے یہ کر دیا“۔ پھر انہوں نے فرمایا: ”اپنی عورت کو اپنے پاس روک لے، بے شک یہ ایک ہی (طلاق) ہے۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الرجعة / حدیث: 1281
تخریج حدیث اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 7 / 343 ـ وفي المعرفة السنن والآثار له (4433)۔ وعبدالرزاق (11175)۔ و ابن ابی شیبة (18130)۔