حدیث نمبر: 1278
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا كَانَ ذَلِكَ لَهُ، وَإِنْ طَلَّقَهَا أَلْفَ مَرَّةٍ فَعَمَدَ رَجُلٌ إِلَى امْرَأَتِهِ فَطَلَّقَهَا، حَتَّى إِذَا شَارَفَتِ انْقِضَاءَ عِدَّتِهَا ارْتَجَعَهَا، ثُمَّ طَلَّقَهَا، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَا آوِيكِ إِلَيَّ وَلَا تَحِلِّينَ أَبَدًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ [الْبَقَرَةِ: 229] فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الطَّلَاقَ جَدِيدًا مَنْ كَانَ مِنْهُمْ طَلَّقَ وَمَنْ لَمْ يُطَلِّقْ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ، وَهُوَ آخِرُ حَدِيثٍ فِيهِ.
حافظ محمد فہد

عروہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا (اسلام سے پہلے دستور تھا) کہ ایک آدمی جب اپنی بیوی کو طلاق دیتا تو اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے اس سے رجوع کر لیتا، اور اگر وہ اسے ایک ہزار مرتبہ طلاق دیتا تو دوبارہ اپنی بیوی کی طرف رجوع کر لیتا، اور پھر اسے طلاق دے دیتا۔ یہاں تک کہ جب اس کی عدت ختم ہونے والی ہوتی تو وہ پھر اس سے رجوع کر کے طلاق دے دیتا، پھر کہتا: ”اللہ کی قسم نہ میں تجھے بساؤں گا اور نہ ہی تجھے بالکل چھوڑوں گا“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کہ طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو دستور کے مطابق روکنا ہے یا پھر اچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے۔“ (البقرہ: 229) اس آیت کے نزول کے بعد لوگوں میں سے جس نے طلاق دی اور جس نے نہ دی سب نے نئے سرے سے طلاق کا خیال رکھنا شروع کیا۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الرجعة / حدیث: 1278
تخریج حدیث انظر الحديث السابق برقم : (1277)۔