مسند الإمام الشافعي
كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع— عورتوں سے حسنِ معاشرت، ایلاء اور خلع کا بیان
بَابٌ مِنْهُ باب: اسی (خلع) کے متعلق ایک اور باب
حدیث نمبر: 1235
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جُمْهَانَ مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ، عَنْ أُمِّ بَكْرَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ: أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسِيدٍ، ثُمَّ أَتَيَا عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: هِيَ تَطْلِيقَةٌ إِلَّا أَنْ تَكُونَ سَمَّيْتَ شَيْئًا فَهُوَ مَا سَمَّيْتَ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ.حافظ محمد فہد
ام بکرہ الاسلمیہ سے روایت ہے کہ اس نے اپنے خاوند عبد اللہ بن اسید سے خلع لیا پھر وہ دونوں یہ معاملہ لے کر عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ تو آپ نے فرمایا: ”اگر کسی اور چیز کا نام لیا ہے تو یہ وہی ہے جس کا نام لیا، اگر نہیں تو یہ طلاق ہے“۔