مسند الإمام الشافعي
كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع— عورتوں سے حسنِ معاشرت، ایلاء اور خلع کا بیان
بَابُ الْخُلْعِ باب: خلع (عورت کا شوہر سے علیحدگی لینا) کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ أَخْبَرَتْهَا: أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ هَذِهِ" ؟ فَقَالَتْ: أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ [ ص: 91 ] يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: "مَا شَأْنُكِ" ؟ قَالَتْ: لَا أَنَا وَلَا ثَابِتٌ لِزَوْجِهَا، فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ، قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ" . فَقَالَتْ حَبِيبَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خُذْ مِنْهَا" فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا.عمرہ سے روایت ہے انہوں نے بتلایا کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا نے اسے خبر دی کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس کے نکاح میں تھیں۔ اور رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو اندھیرے میں حبیبہ بنت سہل کو اپنے دروازے پر پایا، رسول اللہ ﷺ نے دیکھ کر پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میں حبیبہ بنت سہل ہوں اے اللہ کے رسول!“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تجھے کیا پریشانی ہے؟“ اس نے کہا: ”میں اور ثابت اکٹھے نہیں رہ سکتے“۔ پھر جب ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”یہ حبیبہ بنت سہل ہے، اس کے متعلق جو اللہ نے چاہا آپ نے بات چیت کی“۔ حبیبہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! جو کچھ اس نے (بطور حق مہر) مجھے دیا ہے وہ میرے پاس ہے“۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ثابت سے کہا: ”(اپنا دیا ہوا حق مہر) اس سے لے لو“۔ انہوں نے وہ واپس لے لیا اور حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنے میکے خلع لے کر بیٹھ گئیں۔