مسند الإمام الشافعي
كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع— عورتوں سے حسنِ معاشرت، ایلاء اور خلع کا بیان
بَابُ الْإِيلَاءِ باب: ایلاء (بیوی کے قریب نہ جانے کی قسم کھانا) کا بیان
حدیث نمبر: 1229
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، إِذَا ذُكِرَ لَهَا الرَّجُلُ يَحْلِفُ أَنْ لَا يَأْتِيَ امْرَأَتَهُ فَيَدَعَهَا خَمْسَةَ أَشْهُرٍ لَا تَرَى ذَلِكَ شَيْئًا حَتَّى يُوقِفَ. وَتَقُولُ: كَيْفَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ [الْبَقَرَةِ: 229] .حافظ محمد فہد
قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ جب عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ایسے آدمی کا ذکر کیا جاتا جو قسم کھا لیتا کہ وہ اپنی عورت کے پاس نہیں جائے گا، پھر وہ اسے پانچ ماہ تک چھوڑ دیتا، تو وہ اسے درست نہیں سمجھتی تھیں جب تک کہ اسے روک کر فیصلہ نہ کرا لیا جائے۔ وہ فرماتی تھیں: ”اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ یا تو دستور کے مطابق روکنا ہے یا پھر اچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے“۔