مسند الإمام الشافعي
كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع— عورتوں سے حسنِ معاشرت، ایلاء اور خلع کا بیان
بَابٌ فِي النُّشُوزِ باب: نشوز (بیوی کی نافرمانی یا شوہر کی بے رخی) کا بیان
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، سَمِعَهُ يَقُولُ: تَزَوَّجَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَاطِمَةَ بِنْتَ عُتْبَةَ. فَقَالَتْ لَهُ: اصْبِرْ لِي وَأُنْفِقُ عَلَيْكَ، وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا تَقُولُ لَهُ: أَيْنَ عُتْبَةُ وَشَيْبَةُ؟ فَسَكَتَ عَنْهَا، فَدَخَلَ يَوْمًا بَرِمًا، فَقَالَتْ: أَيْنَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَأَيْنَ شَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ؟ فَقَالَ: عَلَى يَسَارِكِ فِي النَّارِ إِذَا دَخَلْتِ. فَشَدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا فَجَاءَتْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ فَأَرْسَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَمُعَاوِيَةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَأُفَرِّقَنَّ بَيْنَهُمَا. وَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا كُنْتُ لَأُفَرِّقَ بَيْنَ شَيْخَيْنِ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ. قَالَ: فَأَتَيَاهُمَا فَوَجَدَاهُمَا قَدْ شَدَّا عَلَيْهِمَا أَثْوَابَهُمَا فَأَصْلَحَا أَمْرَهُمَا.ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ بنت عقبہ سے شادی کی، تو فاطمہ نے ان سے کہا: ”آپ میرے پاس ہی رہیں اور میں آپ پر خرچ بھی کروں گی“۔ وہ جب بھی ان کے پاس آتے تو وہ (فاطمہ) کہتی تھیں: ”عتبہ اور شیبہ کہاں ہیں؟“ تو وہ (یہ سن کر) خاموش ہو جاتے۔ ایک دن وہ اکتائے ہوئے گھر میں داخل ہوئے تو فاطمہ نے کہا: ”عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کہاں ہیں؟“ عقیل رضی اللہ عنہ نے غصے میں کہا: ”جب تو جہنم میں جائے گی تو وہ تیرے بائیں جانب ہوں گے“۔ (یہ بات اس پر سخت گراں گزری) تو اس نے کپڑے باندھے اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آگئی اور ان سے یہ ساری بات بیان کی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن عباس اور معاویہ رضی اللہ عنہما کو (فیصلے کے لیے) بھیجا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”میں ضرور ان کے درمیان علیحدگی کرواؤں گا“، اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں بنی عبد مناف کے دو بزرگوں کے درمیان علیحدگی نہیں ہونے دوں گا“۔ ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ وہ دونوں ان کے پاس آئے تو ان کو سخت غصے میں پایا، پھر ان دونوں نے ان کے مابین صلح کروا دی۔