مسند الإمام الشافعي
كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع— عورتوں سے حسنِ معاشرت، ایلاء اور خلع کا بیان
بَابُ النَّفَقَةِ عَلَى الْأَقَارِبِ باب: رشتہ داروں کے نان و نفقہ کا بیان
حدیث نمبر: 1214
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ: أَنَّ [ ص: 83 ] رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ لِي مَالًا وَعِيَالًا، وَإِنَّ لِأَبِي مَالًا وَعِيَالًا، وَإِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مَالِي فَيُطْعِمَهُ عِيَالَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ" . أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.حافظ محمد فہد
محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے پاس آکر عرض کی: ”میرے پاس مال ہے اور میں صاحبِ اولاد ہوں، اور میرے باپ کے پاس بھی مال ہے لیکن وہ میرے مال سے لے کر اپنے (دوسرے) بچوں کو کھلانا چاہتا ہے“۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”تو بھی اور تیرا مال بھی تیرے باپ کے لیے ہے“۔