مسند الإمام الشافعي
كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع— عورتوں سے حسنِ معاشرت، ایلاء اور خلع کا بیان
بَابٌ فِي النَّفَقَاتِ باب: (بیوی بچوں کے) اخراجات اور نان و نفقہ کا بیان
حدیث نمبر: 1213
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ فِي رِجَالٍ غَابُوا عَنْ نِسَائِهِمْ فَأَمَرُوهُمْ أَنْ يَأْخُذُوهُمْ بِأَنْ يُنْفِقُوا أَوْ يُطَلِّقُوا، فَإِنْ طَلَّقُوا بَعَثُوا بِنَفَقَةِ مَا حَبَسُوا. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَهِيَ أَوَّلُ مَا فِيهِ.حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لشکروں کے امیروں کے نام خط لکھا ان آدمیوں کے متعلق جو (گھروں سے) غائب اپنی عورتوں کے پاس نہیں ہیں۔ اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کا اس بات پر مواخذہ کریں کہ وہ یا تو ان کو نفقہ دیں یا طلاق دے دیں۔ اور اگر وہ طلاق دیں تو جتنی دیر ان کو خرچہ نہیں دیا وہ بھی ساتھ دیں۔