مسند الإمام الشافعي
كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع— عورتوں سے حسنِ معاشرت، ایلاء اور خلع کا بیان
بَابٌ فِي النَّفَقَاتِ باب: (بیوی بچوں کے) اخراجات اور نان و نفقہ کا بیان
حدیث نمبر: 1212
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الرَّجُلِ لَا [ ص: 82 ] يَجِدُ مَا يُنْفِقُ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ: يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا. قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: قُلْتُ سُنَّةٌ، فَقَالَ سَعِيدٌ: سُنَّةٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالَّذِي يُشْبِهُ قَوْلَ سَعِيدٍ: سُنَّةٌ، أَنْ تَكُونَ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ محمد فہد
ابوالزناد سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس کے پاس بیوی پر خرچ کرنے کے لیے مال نہ ہو، تو انہوں نے کہا: ”دونوں کے درمیان علیحدگی کرا دی جائے گی“۔ ابوالزناد نے پوچھا: ”کیا یہ سنت ہے؟“ سعید نے کہا: ”ہاں، سنت ہے“۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سعید کی بات سنت ہے، سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔