مسند الإمام الشافعي
كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع— عورتوں سے حسنِ معاشرت، ایلاء اور خلع کا بیان
بَابٌ فِي النَّفَقَاتِ باب: (بیوی بچوں کے) اخراجات اور نان و نفقہ کا بیان
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي دِينَارٌ، قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ" . قَالَ: عِنْدِي آخَرُ. قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ" . قَالَ: عِنْدِي آخَرُ. قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ" ، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ. قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ" . قَالَ: عِنْدِي آخَرُ. قَالَ: "أَنْتَ أَعْلَمُ" . قَالَ سَعِيدٌ: ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ: يَقُولُ وَلَدُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ تَقُولُ زَوْجَتُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ طَلِّقْنِي، يَقُولُ خَادِمُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ بِعْنِي.ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس ایک دینار ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو اپنے آپ پر خرچ کر“۔ اس نے کہا: ”میرے پاس ایک اور ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو اپنی اولاد پر خرچ کر“۔ اس نے کہا: ”میرے پاس ایک اور ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو اپنے گھر والوں پر خرچ کر“۔ اس نے کہا: ”میرے پاس ایک اور ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اپنے خادم پر خرچ کر“۔ اس نے کہا: ”میرے پاس ایک اور ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو بہتر جانتا ہے کہ اسے کہاں خرچ کرنا ہے“۔ سعید نے کہا کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تو فرماتے: ”تیرا بیٹا کہتا ہے کہ مجھ پر خرچ کرو یا کسی اور کے سپرد کر دو تیری بیوی کہتی ہے مجھ پر خرچ کر یا مجھے طلاق دے دے اور تیرا خادم کہتا ہے کہ مجھ پر خرچ کر یا مجھے بیچ دو“۔