مسند الإمام الشافعي
كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع— عورتوں سے حسنِ معاشرت، ایلاء اور خلع کا بیان
بَابٌ فِي النَّفَقَاتِ باب: (بیوی بچوں کے) اخراجات اور نان و نفقہ کا بیان
حدیث نمبر: 1210
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلَيْسَ لِي مِنْهُ إِلَّا مَا يُدْخِلُ عَلَيَّ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ" .حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس آئی اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ابوسفیان بخیل آدمی ہے اور میرے پاس وہی خرچہ ہوتا ہے جو وہ مجھے دیتا ہے (جو ناکافی ہے)“۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”دستور کے موافق اتنا خرچہ اس کے مال سے لے لے جو تیرے اور تیرے بچوں کے لیے کافی ہو“۔