مسند الإمام الشافعي
كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع— عورتوں سے حسنِ معاشرت، ایلاء اور خلع کا بیان
بَابُ إِنْكَارِ لَوْنِ الْوَلَدِ وَاسْتِقْرَارِ النِّكَاحِ عَلَى الشُّبْهَةِ باب: بچے کے رنگ کے انکار اور شبہ کی بنیاد پر نکاح کے برقرار رہنے کا بیان
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: [ ص: 78 ] أَنَّ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ" ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "مَا أَلْوَانُهَا" ؟ قَالَ: حُمْرٌ. قَالَ: "هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ" ؟ قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا. قَالَ: "فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ" ؟ قَالَ: لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَهَذَا لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ" .ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنی فزارہ قبیلہ سے ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کی، میری بیوی نے کالا کلوٹا بچہ جنم دیا ہے۔ تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس کچھ اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ”ہاں“۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے کہا: ”سرخ“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا ان میں سیاہی مائل سفید بھی ہیں؟“ اس نے کہا: ”ہاں ان میں سیاہ مائل سفید بھی ہیں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہاں سے آگئے؟“ اس نے کہا: ”شاید کوئی رگ کھینچ لائی ہو“۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے اس (بچے) کو بھی کوئی رگ کھینچ لائی ہو“۔