مسند الإمام الشافعي
كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع— عورتوں سے حسنِ معاشرت، ایلاء اور خلع کا بیان
بَابُ إِنْكَارِ لَوْنِ الْوَلَدِ وَاسْتِقْرَارِ النِّكَاحِ عَلَى الشُّبْهَةِ باب: بچے کے رنگ کے انکار اور شبہ کی بنیاد پر نکاح کے برقرار رہنے کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ" ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "أَلْوَانُهَا" ؟ قَالَ: حُمْرٌ. قَالَ: "هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ" ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "أَنَّى تَرَى ذَلِكَ؟" قَالَ: نَزَعَهُ عِرْقٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَلَعَلَّ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ" .ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ گاؤں میں رہنے والوں میں سے ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کی کہ میری بیوی نے کالا بچہ جنم دیا ہے۔ اس پر نبی ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تیرے پاس کچھ اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ”ہاں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے کہا: ”سرخ“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی سیاہی مائل سفید اونٹ بھی ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ کے خیال میں یہ کہاں سے آگیا؟“ اس نے کہا: ”کسی رگ نے اس کو کھینچ لیا ہے“۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”شاید اسے بھی کوئی دور کی رگ کھینچ لائی ہو“۔ (جس کی وجہ سے کسی دور کے رشتہ دار کے مشابہ پڑنے سے اس کا رنگ کالا ہو گیا ہو)۔