حدیث نمبر: 1204
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ" ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "أَلْوَانُهَا" ؟ قَالَ: حُمْرٌ. قَالَ: "هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ" ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "أَنَّى تَرَى ذَلِكَ؟" قَالَ: نَزَعَهُ عِرْقٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَلَعَلَّ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ" .
حافظ محمد فہد

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ گاؤں میں رہنے والوں میں سے ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کی کہ میری بیوی نے کالا بچہ جنم دیا ہے۔ اس پر نبی ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تیرے پاس کچھ اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ”ہاں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے کہا: ”سرخ“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی سیاہی مائل سفید اونٹ بھی ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ کے خیال میں یہ کہاں سے آگیا؟“ اس نے کہا: ”کسی رگ نے اس کو کھینچ لیا ہے“۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”شاید اسے بھی کوئی دور کی رگ کھینچ لائی ہو“۔ (جس کی وجہ سے کسی دور کے رشتہ دار کے مشابہ پڑنے سے اس کا رنگ کالا ہو گیا ہو)۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع / حدیث: 1204
تخریج حدیث اخرجه البخاری ،الطلاق، باب اذا عرض نفى الولد (5305) - مسلم ، اللعان (1500)۔