حدیث نمبر: 1203
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ يَعْنِي: ابْنَ الْخَطَّابِ، إِلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ كَانَ يَسْكُنُ دَارَنَا فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى [ ص: 77 ] عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلَهُ عَنْ وِلَادٍ مِنْ وِلَادِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ: أَمَّا الْفِرَاشُ فَلِفُلَانٍ، وَأَمَّا النُّطْفَةُ فَلِفُلَانٍ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صَدَقْتَ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْفِرَاشِ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد

عبداللہ بن ابی یزید نے اپنے باپ سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بنی زہرہ کے ایک بوڑھے کی طرف آدمی بھیجا جو ہمارے گھروں میں رہتا تھا، میں بھی اس کے ساتھ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے اس سے جاہلیت میں اولاد کی پیدائش کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا: ”بستر کسی کا ہوتا اور نطفہ کسی اور کا ہوتا (یعنی بستر والا اور نطفہ والا الگ الگ ہوتے)“۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ نے سچ کہا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ بستر والے کے حق میں دیا ہے“۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع / حدیث: 1203
تخریج حدیث تقدم تخريجه برقم : (968)۔