مسند الإمام الشافعي
كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع— عورتوں سے حسنِ معاشرت، ایلاء اور خلع کا بیان
بَابٌ فِي الْعَزْلِ عَنِ الْوَلَائِدِ باب: لونڈیوں سے عزل (بچہ روکنے کا طریقہ) کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1199
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَطَئُونَ وَلَائِدَهُمْ ثُمَّ يَعْزِلُونَ، لَا تَأْتِينِي وَلِيدَةٌ يَعْتَرِفُ سَيِّدُهَا أَنْ قَدْ أَلَمَّ بِهَا إِلَّا قَدْ أَلْحَقْتُ بِهِ وَلَدَهَا، فَاعْزِلُوا بَعْدُ أَوِ اتْرُكُوا.حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اپنی لونڈیوں سے وطی کرتے ہیں پھر وہ عزل کرتے ہیں۔ اب میرے پاس جو کوئی لونڈی آئی اور اس کے آقا نے اس سے صحبت کا اعتراف کیا تو میں اس (بچے) کو اس کے باپ سے ملا دوں گا، اس کے بعد تم عزل کرو یا نہ کرو (تمہیں اختیار ہے)“۔