مسند الإمام الشافعي
كتاب النكاح— نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ باب: ایک یا دو بار چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 1184
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ [ ص: 66 ] النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ بِهِ وَهُوَ يَرْضَعُ إِلَى أُخْتِهَا أُمِّ كُلْثُومٍ فَأَرْضَعَتْهُ ثَلَاثَ رَضَعَاتٍ، ثُمَّ مَرِضَتْ فَلَمْ تُرْضِعْهُ غَيْرَ ثَلَاثِ رَضَعَاتٍ، فَلَمْ أَكُنْ أَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ لَمْ تُكْمِلْ لِي عَشْرَ رَضَعَاتٍ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الرَّضَاعِ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.حافظ محمد فہد
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ جب وہ دودھ پیتے بچے تھے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اپنی بہن ام کلثوم کے پاس بھیجا، انہوں نے اسے تین دفعہ دودھ پلایا پھر وہ بیمار ہو گئیں اور تین دفعہ سے زیادہ دودھ نہ پلا سکیں، لہذا میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس نہیں آجا سکتا تھا کیونکہ ام کلثوم نے میری دس رضاعت مکمل نہیں کی تھیں۔