مسند الإمام الشافعي
كتاب النكاح— نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ تَحْرِيمِ الرَّبِيبَةِ وَمَا يَحْرُمُ بِالرَّضَاعِ باب: ربیبہ (بیوی کی پہلے شوہر سے بیٹی) کی حرمت اور دودھ کے رشتے سے حرام ہونے والوں کا بیان
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا، وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى حَفْصَةَ. قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَرَاهُ فُلَانًا" ، لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ فَدَخَلَ عَلَيَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نَعَمْ، إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ" .عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ نبی ﷺ ان کے ہاں تشریف فرما تھے کہ انہوں نے ایک آدمی کی آواز سنی جو حفصہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کر رہا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ آدمی آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے“۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ فلاں آدمی ہے“ (حفصہ کے رضاعی چچا کا نام لیا)۔ تو میں نے پوچھا: ”کیا فلاں، جو ان کے رضاعی چچا تھے، اگر زندہ ہوتے تو میرے یہاں آجا سکتے تھے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جیسے خون ملنے سے حرمت ہوتی ہے ویسے ہی دودھ پینے سے بھی حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔“