حدیث نمبر: 1176
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ، فَأَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا غُلَامًا، وَأَرْضَعَتِ الْأُخْرَى جَارِيَةً، فَقِيلَ لَهُ: هَلْ يَتَزَوَّجُ الْغُلَامُ الْجَارِيَةَ؟ فَقَالَ: لَا. اللِّقَاحُ وَاحِدٌ.
حافظ محمد فہد

عمرو بن شرید سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ: ”ایک شخص کے پاس دو بیویاں ہیں۔ ان میں سے ایک نے کسی کے لڑکے کو دودھ پلایا، اور دوسری نے کسی اور کی لڑکی کو، تو کیا اس لڑکے اور لڑکی کا نکاح درست ہے؟“ فرمایا: ”نہیں۔ کیونکہ دونوں میں مادہ منویہ ڈالنے والا مرد تو ایک ہی ہے (جس سے دونوں عورتوں کا دودھ بنا ہے)۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1176
تخریج حدیث اخرجه الترمذى الرضاع، باب ماجاء في لبن الفحل (1149) - ومالك في الموطا الرضاع، باب رضاعة الصغير، والبيهقي : (453/7)۔