مسند الإمام الشافعي
كتاب النكاح— نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ تَحْرِيمِ الرَّبِيبَةِ وَمَا يَحْرُمُ بِالرَّضَاعِ باب: ربیبہ (بیوی کی پہلے شوہر سے بیٹی) کی حرمت اور دودھ کے رشتے سے حرام ہونے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 1174
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُدْعَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي بِنْتِ عَمِّكَ بِنْتِ حَمْزَةَ فَإِنَّهَا أَجْمَلُ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ، فَقَالَ: "أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ حَمْزَةَ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَأَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ" .حافظ محمد فہد
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ کے لیے اپنے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی میں کوئی رغبت نہیں، وہ قریش کی سب سے خوبصورت نوجوان لڑکی ہے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا آپ کو علم نہیں کہ حمزہ رضی اللہ عنہ میرے رضاعی بھائی بھی ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام کر دیے ہیں جو نسب سے حرام کیے ہیں۔“