مسند الإمام الشافعي
كتاب النكاح— نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ تَحْرِيمِ الرَّبِيبَةِ وَمَا يَحْرُمُ بِالرَّضَاعِ باب: ربیبہ (بیوی کی پہلے شوہر سے بیٹی) کی حرمت اور دودھ کے رشتے سے حرام ہونے والوں کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي ابْنَةِ أَبِي سُفْيَانَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَاعِلٌ مَاذَا" ؟ قَالَتْ: تَنْكِحُهَا. قَالَ: "أُخْتَكِ" ! قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "أَتُحِبِّينَ ذَلِكَ" ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، قَالَ: "فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي" . قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ بِأَنَّكَ تَخْطُبُ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ. قَالَ: "بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ" ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: "وَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لِابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ" .ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ کو میری بہن، ابوسفیان کی بیٹی میں کوئی دلچسپی ہے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیا کرنے والا ہوں؟“ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”آپ اس سے نکاح کر لیں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری بہن سے!“ انہوں نے کہا: ”ہاں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم یہ پسند کرو گی؟“ (کہ تمہاری بہن تمہاری سوکن ہو) انہوں نے کہا: ”ہاں، میں آپ کے پاس اکیلی تو نہیں ہوں اور میں خیر و برکت میں اپنی بہن کو اپنا شریک بنانا پسند کرتی ہوں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے لیے حلال نہیں ہے“۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوسلمہ کی بیٹی؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری ربیبہ اور زیرِ پرورش نہ ہوتی تو تب بھی حلال نہ ہوتی، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور اس کے باپ کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، لہٰذا تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ سے نکاح کے لیے پیش نہ کرو۔“