حدیث نمبر: 1168
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ: هَلْ تُوطَأُ إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الْأُخْرَى؟ فَقَالَ عُمَرُ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُجِيزَهُمَا جَمِيعًا.
حافظ محمد فہد

عبید اللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک عورت اور اس کی بیٹی جو ایک ہی آدمی کی لونڈیاں ہوں کے متعلق سوال کیا گیا، کیا آدمی ان دونوں میں سے ایک سے وطی کرنے کے بعد دوسری سے کر سکتا ہے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں پسند نہیں کرتا کہ ان دونوں سے بیک وقت وطی کو جائز قرار دوں“۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1168
تخریج حدیث صحیح اخرجه البيهقي : 7 / 164 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4157) - والدار قطنی: 3/ 282 - ومالك في الموطا النكاح، باب ماجاء في كراهية اصابة الاختين يملك اليمين والمرأة وابنتها۔