مسند الإمام الشافعي
كتاب النكاح— نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ مَا كَانَ مِنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ باب: نکاحِ متعہ (عارضی نکاح) کی ابتدائی حیثیت کا بیان
حدیث نمبر: 1156
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَخْتَصِيَ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ إِلَى أَجَلٍ بِالشَّيْءِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.حافظ محمد فہد
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: ”ہم نبی ﷺ کے ساتھ جہاد کرتے اور بیویاں ساتھ نہ تھیں، ہم نے خصی ہونا چاہا تو ہمیں روک دیا گیا، پھر ہمیں ایک عورت سے معین مدت تک کسی چیز کے بدلے نکاح کی رخصت دی گئی۔“