مسند الإمام الشافعي
كتاب النكاح— نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ مَا كَانَ مِنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ باب: نکاحِ متعہ (عارضی نکاح) کی ابتدائی حیثیت کا بیان
حدیث نمبر: 1155
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَخْتَصِيَ، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ إِلَى أَجَلٍ بِالشَّيْءِ.حافظ محمد فہد
قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کرتے اور ہمارے ساتھ بیویاں نہ ہوتیں، سو ہم نے خصی ہونے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا، پھر ہمیں ایک معین مدت تک کسی چیز (مہر) کے بدلے عورت سے نکاح (متعہ) کی اجازت دے دی گئی۔“