مسند الإمام الشافعي
كتاب النكاح— نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ بُطْلَانِ النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ وَرَدِّهِ باب: ولی کے بغیر نکاح کے باطل ہونے اور اسے رد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1144
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنِكَاحٍ لَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ، فَقَالَ: هَذَا نِكَاحُ السِّرِّ، فَلَا أُجِيزُهُ، وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهِ لَرَجَمْتُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ.حافظ محمد فہد
ابوالزبیر نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسے نکاح کا معاملہ لایا گیا جس میں صرف ایک مرد اور ایک عورت گواہ تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ خفیہ نکاح ہے، اور میں اسے جائز قرار نہیں دیتا، اور اگر میں پہلے اسے بیان کر چکا ہوتا تو اب میں رجم کرتا۔“