مسند الإمام الشافعي
كتاب النكاح— نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ بُطْلَانِ النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ وَرَدِّهِ باب: ولی کے بغیر نکاح کے باطل ہونے اور اسے رد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1142
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: جَمَعَتِ الطَّرِيقُ رُفْقَةً فِيهِمُ امْرَأَةٌ ثَيِّبٌ فَوَلَّتْ رَجُلًا مِنْهُمْ أَمْرَهَا فَزَوَّجَهَا رَجُلًا، فَجَلَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّاكِحَ وَالْمُنْكِحَ وَرَدَّ نِكَاحَهَا.حافظ محمد فہد
عکرمہ بن خالد نے بیان کیا کہ دورانِ سفر ایک قافلہ اکٹھا ہو گیا اور ان میں ایک عورت بیوہ تھی، اس نے ان میں سے ایک آدمی کو اپنا ولی بنایا اور اس نے اس کا دوسرے آدمی سے نکاح کرا دیا، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نکاح کرنے اور کروانے والے کو کوڑے لگوائے اور اس نکاح کو فسخ کر دیا۔