مسند الإمام الشافعي
كتاب النكاح— نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ بُطْلَانِ النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ وَرَدِّهِ باب: ولی کے بغیر نکاح کے باطل ہونے اور اسے رد کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: نَكَحَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي بَكْرِ بْنِ كِنَانَةَ، يُقَالُ لَهَا: بِنْتُ أَبِي ثُمَامَةَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُضَرِّسٍ، فَكَتَبَ عَلْقَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْعُتْوَارِيُّ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، إِذْ هُوَ وَالِي الْمَدِينَةِ: إِنِّي وَلِيُّهَا وَإِنَّهَا نَكَحَتْ بِغَيْرِ أَمْرِي فَرَدَّهُ عُمَرُ وَقَدْ أَصَابَهَا قَالَ: فَأَيُّ امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَلَا نِكَاحَ لَهَا، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، وَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا صَدَاقُ مِثْلِهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا بِمَا قَضَى لَهَا بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بنی بکر بن کنانہ میں سے ایک عورت نے، جسے بنتِ ابی ثمامہ کہا جاتا تھا، عمر بن عبداللہ بن مضرس سے نکاح کیا۔ علقمہ بن علقمہ العتواری نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو خط لکھا (جبکہ وہ مدینہ کے گورنر تھے) کہ میں اس عورت کا ولی ہوں اور اس نے میرے مشورے کے بغیر شادی کی۔ عمر نے اس نکاح کو فسخ کر دیا، جبکہ وہ آدمی اس سے ہم بستری کر چکا تھا۔ فرمایا: جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح نہیں ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے: ”اس کا نکاح باطل ہے۔ اور اگر مرد نے اس سے ہم بستری کی تو اس کے لیے مہرِ مثل ہے“، اس کے بدلے جو اس نے اس سے حاجت پوری کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کے مطابق جو آپ نے ایسی عورت کے لیے کیا۔