مسند الإمام الشافعي
كتاب النكاح— نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ بُطْلَانِ النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ وَرَدِّهِ باب: ولی کے بغیر نکاح کے باطل ہونے اور اسے رد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1140
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ثَلَاثًا، وَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ" .حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر مرد اس عورت سے ہم بستری کرے تو اس پر حقِ مہر کی ادائیگی واجب ہے، کیونکہ اس نے اس کے بدلے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا۔ اگر اولیاء کا آپس میں اختلاف ہو جائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حکمران ہے۔“