مسند الإمام الشافعي
كتاب النكاح— نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ التَّعْرِيضِ بِالْخِطْبَةِ باب: (عدت میں) نکاح کا اشارتاً پیغام دینے کا بیان
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلَاقِ زَوْجِهَا: "فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" . قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ أَخْبَرْتُهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ انْكِحِي أُسَامَةَ" . قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ قَالَ: "انْكِحِي أُسَامَةَ" . فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَالثَّالِثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.فاطمہ رضی اللہ عنہا (بنتِ قیس) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے ان کے خاوند کی طرف سے طلاق کی صورت میں عدت کے دوران کہا: ”جب تیری عدت پوری ہو جائے تو مجھے بتانا۔“ فرماتی ہیں: جب میری عدت پوری ہوئی تو میں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ معاویہ اور ابو جہم رضی اللہ عنہما نے مجھے پیغامِ نکاح بھیجا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”معاویہ مفلس آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں، اور ابو جہم تو اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے نہیں اتارتا، لہذا تو اسامہ سے نکاح کر لے۔“ فرماتی ہیں: مجھے یہ بات ناپسند لگی، آپ ﷺ نے دوبارہ کہا: ”تم اسامہ (رضی اللہ عنہ) سے نکاح کر لو۔“ پھر میں نے ان سے نکاح کر لیا، اور اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی خیر دی کہ عورتیں مجھ پر رشک کرنے لگیں۔