حدیث نمبر: 1131
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: "وَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" . قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ أَخْبَرْتُهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ: "أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا، وَاغْتَبَطْتُ بِهِ" .
حافظ محمد فہد

فاطمہ بنتِ قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا: ”جب تیری عدت ختم ہو جائے تو مجھے اطلاع کرنا۔“ کہتی ہیں: جب میری عدت ختم ہوئی تو میں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ معاویہ اور ابو جہم رضی اللہ عنہما نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”معاویہ مفلس آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں، اور ابو جہم تو اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے نہیں اتارتا، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ چنانچہ میں نے ان سے نکاح کر لیا، اللہ نے اس نکاح میں اتنی خیر و خوبی دی کہ دوسری عورتیں مجھ پر رشک کرنے لگیں۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1131
تخریج حدیث أخرجه مسلم، الطلاق، باب المطلقة البائن لا نفقة لها (1480)۔