حدیث نمبر: 1122
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ قَالَ: كَانَتْ بِنْتُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ وَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَزَوَّجَهَا فَحُدِّثَ أَنَّهَا عَاقِرٌ لَا تَلِدُ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ مُجَامَعَتِهَا فَمَكَثَتْ حَيَاةَ عُمَرَ وَبَعْضَ خِلَافَةِ عُثْمَانَ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ لِتَشْرَكَ نِسَاءَهُ فِي الْمِيرَاثِ وَكَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ قَرَابَةٌ.
حافظ محمد فہد

ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع نے بیان کیا کہ حفص بن مغیرہ کی بیٹی عبداللہ بن ابی ربیعہ کے نکاح میں تھی اور انہوں نے اسے طلاق دے دی، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے شادی کر لی۔ ان سے یہ بات بیان کی گئی کہ یہ عورت بانجھ ہے اس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تو انہوں نے اس کے ساتھ صحبت سے پہلے ہی اسے طلاق دے دی۔ وہ عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی اور عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے کچھ عرصہ اسی طرح رہی۔ پھر اس سے عبداللہ بن ابی ربیعہ نے دوبارہ شادی کر لی، وہ بیمار تھے تاکہ وہ اس کی بیویوں میں ان کی میراث کی حصہ دار بن سکے، اور ان کی آپس میں رشتہ داری بھی تھی۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1122
تخریج حدیث اسناده ضعيف لعنة ابن جريج : اخرجه البيهقى 6 / 276 - وفى المعرفة السنن والآثار له (3926)۔