مسند الإمام الشافعي
كتاب النكاح— نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ النِّكَاحِ فِي الْمَرَضِ وَصَدَاقِ الْمِثْلِ باب: بیماری کی حالت میں نکاح اور مہرِ مثل کا بیان
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يَقُولُ: أَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أُمِّ الْحَكَمِ فِي شَكْوَاهُ أَنْ يُخْرِجَ امْرَأَةً مِنْ مِيرَاثِهَا فَأَبَتْ فَنَكَحَ عَلَيْهَا ثَلَاثَ نِسْوَةٍ وَأَصْدَقَهُنَّ أَلْفَ دِينَارٍ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ، فَأَجَازَ ذَلِكَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ وَشَرَّكَ بَيْنَهُنَّ فِي الثُّمُنِ. قَالَ الرَّبِيعُ: هَذَا قَوْلُ الشَّافِعِيِّ نَصٌّ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَرَى ذَلِكَ صَدَاقَ مِثْلِهِنَّ وَلَوْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ صَدَاقِ مِثْلِهِنَّ جَازَ النِّكَاحُ، وَبَطَلَ مَا زَادَ عَلَى صَدَاقِ مِثْلِهِنَّ إِنْ مَاتَ مِنْ مَرَضِهِ ذَلِكَ؛ لِأَنَّهُ فِي حُكْمِ الْوَصِيَّةِ وَالْوَصِيَّةُ لَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ.عکرمہ بن خالد بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن امِ حکم نے اپنی بیماری میں ارادہ کیا کہ اس کی بیوی اس کی میراث سے (صدقہ وغیرہ کے لیے حصہ) نکالے، اس عورت نے انکار کر دیا، تو انہوں نے اس پر تین اور عورتوں سے نکاح کر لیا اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ہزار دینار حق مہر دیا۔ عبدالملک بن مروان نے اسے جائز قرار دے کر ان سب کو آٹھویں حصے میں حصہ دار بنا دیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ مہرِ مثل تھا، اور اگر یہ مہرِ مثل سے زائد ہو تو نکاح تو تب بھی جائز ہے البتہ مہرِ مثل سے زائد رقم باطل قرار پائے گا اگر وہ اپنی اسی بیماری میں فوت ہو جائے۔ کیونکہ یہ وصیت کے حکم میں ہے اور وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے۔“