مسند الإمام الشافعي
كتاب النكاح— نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ النِّكَاحِ فِي الْمَرَضِ وَصَدَاقِ الْمِثْلِ باب: بیماری کی حالت میں نکاح اور مہرِ مثل کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ [ ص: 35 ] جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ: أَنَّ ابْنَ أُمِّ الْحَكَمِ سَأَلَ امْرَأَةً لَهُ أَنْ يُخْرِجَهَا مِنْ مِيرَاثِهَا مِنْهُ فِي مَرَضِهِ فَأَبَتْ فَقَالَ: لَأُدْخِلَنَّ عَلَيْكِ فِيهِ مَنْ يُنْقِصُ حَقَّكِ أَوْ يَضُرُّ بِهِ فَنَكَحَ ثَلَاثًا فِي مَرَضِهِ أَصْدَقَ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ أَلْفَ دِينَارٍ، فَأَجَازَ ذَلِكَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ. قَالَ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ: إِنْ كَانَ صَدَاقَ مِثْلِهِنَّ جَازَ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ رُدَّتِ الزِّيَادَةُ وَقَالَ فِي الْمُحَابَاةِ كَمَا قُلْتُ أَنَا فِي كِتَابِ الْوَصَايَا الَّذِي لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ.عکرمہ بن خالد سے روایت ہے کہ ام حکیم کے بیٹے نے اپنی بیماری میں اپنی بیوی سے کہا کہ وہ اس کے لیے اس کی میراث سے کچھ نکال دے، تو اس عورت نے انکار کر دیا، تو ام حکیم کے بیٹے نے کہا، میں تجھ پر اس میراث میں ان کو داخل کروں گا جو تیرے حق کو کم کریں گی یا اس میں نقصان دہ ثابت ہوں، لہذا انہوں نے اپنی بیماری میں تین نکاح کر لیے، اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ہزار حق مہر دیا، عبدالملک بن مروان نے اس کو جائز قرار دیا۔ سعید بن سالم کہتے ہیں اگر تو ان عورتوں کا مہر، مہر مثل ہو تو درست ہے اور اگر مثل سے زیادہ ہے تو پھر زائد رقم کو واپس کر دیا جائے گا۔