مسند الإمام الشافعي
كتاب النكاح— نکاح کے مسائل کا بیان
بَابُ الزَّوَاجِ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ باب: سونے کی ایک گٹھلی کے برابر وزن (مہر) پر نکاح کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَسْهَمَ النَّاسَ الْمَنَازِلَ، فَطَارَ سَهْمُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَلَى سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: تَعَالَ حَتَّى أُقَاسِمَكَ مَالِي وَأَنْزِلَ لَكَ عَنْ أَيِّ امْرَأَتِي شِئْتَ؟ وَأَكْفِيكَ الْعَمَلَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: بَارَكَ اللَّهُ [ ص: 32 ] لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَأَصَابَ شَيْئًا، فَخَطَبَ امْرَأَةً فَتَزَوَّجَهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ" ؟ قَالَ: عَلَى نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: "أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ" .انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے لوگوں کی رہائش گاہوں کے لیے قرعہ اندازی فرمائی، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا قرعہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے نام نکلا۔ تو سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”آپ آئیں میں آپ کے لیے اپنا مال تقسیم کروں، اور میں آپ کے لیے اپنی دو بیویوں میں سے جس کو آپ چاہتے ہیں (اس سے علیحدہ ہو کر) آپ کے لیے چھوڑ دیتا ہوں، اور آپ کے لیے مزدوری بھی کروں گا۔“ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں کہا: ”اللہ تعالیٰ آپ کے اہل اور مال میں برکت عطا فرمائے، مجھے بازار کا راستہ بتا دیجیے۔“ آپ رضی اللہ عنہ بازار نکل گئے اور کچھ مال کمایا، پھر ایک عورت کو منگنی کا پیغام بھیجا اور اس سے شادی کر لی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں کہا: ”اے عبدالرحمن! کتنے مہر پر تو نے اس سے شادی کی؟“ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: ”سونے کی ایک گٹھلی پر۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ولیمہ کر، اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔“