حدیث نمبر: 1106
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ [ ص: 28 ] عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ لَهَا: "لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ، وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ، وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ عِنْدَكِ وَدُرْتُ" . قَالَتْ: ثَلِّثْ.
حافظ محمد فہد

عبد الملک بن ابوبکر بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی، اور ان کے ہاں صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے انہیں کہا: ”تیری وجہ سے تیرے گھر والوں پر کوئی رسوائی نہیں، اگر تو چاہے تو میں تیرے پاس سات دن گزاروں، اور سات ہی ان کے پاس، اور اگر تو چاہے تو تیرے پاس تین دن گزاروں گا پھر باری مقرر کروں گا“۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”آپ تین دن گزاریں“۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1106
تخریج حدیث اخرجه مسلم ،الرضاع، باب قدر ما تستحقه البكر والثيب عن اقامة الزوج عندها عقب الزفاف (1460)۔