مسند الإمام الشافعي
كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة— آزادی، ولاء، مدبر، مکاتب اور ماتحتوں سے حسنِ سلوک کا بیان
بَابُ حُسْنِ الْمَلَكَةِ باب: ماتحتوں (غلاموں) کے ساتھ حسنِ سلوک کا بیان
حدیث نمبر: 1102
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا كَفَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيَدْعُهُ فَلْيَجْلِسْ فَإِنْ أَبَى فَلْيُرَوِّغْ لَهُ لُقْمَةً فَلْيُنَاوِلْهُ إِيَّاهَا أَوْ يُعْطِهِ إِيَّاهَا" أَوْ كَلِمَةً هَذَا مَعْنَاهَا. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْقُرْعَةِ وَالنَّفَقَةِ عَلَى الْأَقَارِبِ وَهِيَ جَمِيعُ مَا فِيهِ.حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا خادم اسے کھانا پکانے کی گرمی اور دھوئیں سے بچائے تو کھاتے وقت اسے بھی اپنے ہمراہ بٹھا لے۔ اگر یہ نہ ہو سکے تو اس کھانے سے ایک لذیذ نوالہ اسے دے دے یا اسے عطا کر دے۔“ یا اس معنی کا کلمہ کہا (یہ راوی کا شک ہے)۔