مسند الإمام الشافعي
كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة— آزادی، ولاء، مدبر، مکاتب اور ماتحتوں سے حسنِ سلوک کا بیان
بَابُ الْمُكَاتَبِ باب: مکاتب (آزادی کا معاہدہ کرنے والے) غلام کا بیان
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ: أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَاتَبَ غُلَامًا لَهُ عَلَى ثَلَاثِينَ أَلْفًا، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ عَجَزْتُ. فَقَالَ: إِذَنْ أَمْحُو كِتَابَتَكَ. فَقَالَ: قَدْ عَجَزْتُ فَامْحُهَا أَنْتَ. قَالَ نَافِعٌ: فَأَشَرْتُ إِلَيْهِ: امْحُهَا وَهُوَ يَطْمَعُ أَنْ يُعْتِقَهُ، فَمَحَاهَا الْعَبْدُ وَلَهُ ابْنَانِ أَوِ ابْنٌ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: اعْتَزِلْ جَارِيَتِي، قَالَ: فَأَعْتَقَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَهُ بَعْدُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْمُكَاتَبِ، وَهُمَا مَا فِيهِ.اسماعیل بن امیہ سے روایت ہے کہ نافع نے انہیں بتایا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے تیس ہزار پر مکاتبت کر لی۔ پھر وہ غلام ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: ”میں (رقم ادا کرنے سے) عاجز آچکا ہوں“۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تب اپنی مکاتبت کی تحریر کو مٹا دو“۔ اس نے کہا: ”میں بے بس ہوں، آپ خود ہی مٹا دیں“۔ نافع نے کہا: ”میں نے اس غلام کو اشارہ کیا کہ اسے مٹا دے کیونکہ وہ (ابن عمر) اسے آزاد کرنا چاہتے تھے“۔ اس غلام نے مکاتبت کو مٹا دیا، اس کے ایک یا دو بیٹے تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میری لونڈی سے علیحدہ ہو جا“۔ نافع نے کہا: بعد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے بیٹے کو بھی آزاد کر دیا۔