حدیث نمبر: 1099
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ: أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَاتَبَ غُلَامًا لَهُ عَلَى ثَلَاثِينَ أَلْفًا، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ عَجَزْتُ. فَقَالَ: إِذَنْ أَمْحُو كِتَابَتَكَ. فَقَالَ: قَدْ عَجَزْتُ فَامْحُهَا أَنْتَ. قَالَ نَافِعٌ: فَأَشَرْتُ إِلَيْهِ: امْحُهَا وَهُوَ يَطْمَعُ أَنْ يُعْتِقَهُ، فَمَحَاهَا الْعَبْدُ وَلَهُ ابْنَانِ أَوِ ابْنٌ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: اعْتَزِلْ جَارِيَتِي، قَالَ: فَأَعْتَقَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَهُ بَعْدُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْمُكَاتَبِ، وَهُمَا مَا فِيهِ.
حافظ محمد فہد

اسماعیل بن امیہ سے روایت ہے کہ نافع نے انہیں بتایا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے تیس ہزار پر مکاتبت کر لی۔ پھر وہ غلام ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: ”میں (رقم ادا کرنے سے) عاجز آچکا ہوں“۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تب اپنی مکاتبت کی تحریر کو مٹا دو“۔ اس نے کہا: ”میں بے بس ہوں، آپ خود ہی مٹا دیں“۔ نافع نے کہا: ”میں نے اس غلام کو اشارہ کیا کہ اسے مٹا دے کیونکہ وہ (ابن عمر) اسے آزاد کرنا چاہتے تھے“۔ اس غلام نے مکاتبت کو مٹا دیا، اس کے ایک یا دو بیٹے تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میری لونڈی سے علیحدہ ہو جا“۔ نافع نے کہا: بعد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے بیٹے کو بھی آزاد کر دیا۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1099
تخریج حدیث صحیح اخرجه البيهقى 341/10 342 - وعبد الرزاق (15723)، (15724)۔