مسند الإمام الشافعي
كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة— آزادی، ولاء، مدبر، مکاتب اور ماتحتوں سے حسنِ سلوک کا بیان
بَابُ بَيْعِ الْمُدَبَّرِ باب: مدبر غلام (جس کی آزادی مالک کی موت پر مشروط ہو) کی فروخت کا بیان
قَالَ الشَّافِعِيُّ: هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْهُ عَامَّةَ دَهْرِي، ثُمَّ وَجَدْتُ فِي كِتَابِي دَبَّرَ رَجُلٌ مِنَّا غُلَامًا لَهُ فَمَاتَ فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ خَطَأً مِنْ كِتَابِي أَوْ خَطَأً مِنْ سُفْيَانَ، فَإِنْ كَانَ مِنْ سُفْيَانَ فَابْنُ جُرَيْجٍ أَحْفَظُ لِحَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ مِنْ سُفْيَانَ وَمَعَ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدِيثُ اللَّيْثِ وَغَيْرُهُ. وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَحُدُّ الْحَدِيثَ تَحْدِيدًا يُخْبِرُ فِيهِ حَيَاةَ الَّذِي دَبَّرَهُ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَغَيْرُهُ أَحْفَظُ لِحَدِيثِ عَمْرٍو مِنْ سُفْيَانَ وَحْدَهُ. [ ص: 22 ] وَقَدْ يُسْتَدَلُّ عَلَى حِفْظِ الْحَدِيثِ مِنْ خَطَئِهِ بِأَقَلَّ مِمَّا وَجَدْتُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَاللَّيْثِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَفِي حَدِيثِ حَمَّادٍ، عَنْ عَمْرٍو وَغَيْرِ حَمَّادٍ، يَرْوِيهِ عَنْ عَمْرٍو كَمَا رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ. وَقَدْ أَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِمَّنْ لَقِيَ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ قَدِيمًا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُدَاخِلُ فِي حَدِيثِهِ: "مَاتَ" ، وَعَجِبَ بَعْضُهُمْ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي وَجَدْتُ فِي كِتَابِي: "مَاتَ" . قَالَ: وَلَعَلَّ هَذَا خَطَأٌ أَوْ زَلَلًا مِنْهُ حَفِظْتُهَا عَنْهُ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے ان سے اپنے دور میں عموماً اسی طرح سنا، پھر میں نے اپنی کتاب میں پایا کہ ”ہم میں سے ایک آدمی نے غلام مدبر کیا اور وہ مر گیا“، یہ (عبارت) یا تو میری کتاب کی غلطی ہے یا سفیان رحمہ اللہ سے غلطی ہوئی ہے۔ اگر یہ غلطی سفیان رحمہ اللہ کی طرف سے ہے تو پھر ابن جریح، ابوالزبیر کی حدیث کو سفیان سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں اور پھر ابن جریح کے ساتھ لیث اور دیگر بھی یہی (ابن جریح والی) حدیث بیان کرتے ہیں۔ اور ابوالزبیر حدیث میں مدبر کی زندگی کی حد بھی بتاتے ہیں۔ اور حماد بن زید، حماد بن سلمہ اور ان کے علاوہ دوسرے (راوی) عمرو کی حدیث کو اکیلے سفیان سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں۔ حدیث کے حفظ پر استدلال ان غلطیوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے جو میں نے ابن جریح اور لیث کی ابوالزبیر کے واسطہ سے حدیث میں پائی ہیں۔ اور حماد کی حدیث میں جو عمرو کے واسطہ سے ہے، اور حماد کے علاوہ بھی جو عمرو سے روایت ہے، اسے ویسے ہی بیان کرتے ہیں جیسا کہ حماد بن زید نے اس کو بیان کیا ہے۔ اور سفیان بن عیینہ سے پہلے ملاقات کرنے والوں میں سے مجھے کئی ایک نے بتایا کہ وہ اپنی حدیث میں لفظ ”مات“ (وہ مر گیا) بیان نہیں کرتے تھے۔ اور جب میں نے ان کو بتایا کہ میں نے اپنی کتاب میں لفظ ”مات“ پایا ہے تو ان میں سے بعض نے تعجب کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: شاید یہ ان کی غلطی یا لغزش ہے جو میں نے ان سے یاد کی ہے۔